Wednesday, 20 July 2016
Saturday, 16 July 2016
انتہای دلچسپ
انتہائی دلچسپ :
لفظ "جناب" کی حقیقت :
لفظ " جناب" کسی زمانے میں گالی ھوتی تھی. اس کی مثال کچھ یوں دی گئ .
ایک جگہ پر کچھ انگریزی خواں لوگ تھے. وہ دینی طلبہ کو بہت تنگ کرتے تھے اور عربی مدارس کے طلباء کو قربانی کا مینڈھا کہتے غرض کبھی کچھ کبھی کچھ.. ایک دن سب طلبہ نے طے کیا کہ انگریزی خواں لوگوں کے لۓ کوئ ایسا لفظ بنائیں جس میں ان کی ساری صفات آ جائیں غور کیا گیا تو چار باتیں مشترک تھیں پہلی یہ لوگ بڑے جاھل تھے دوسری نالائق تھے تیسری احمق تھے اور چوتھی بیوقوف تھے. اس کے بعد طے پایا کہ چاروں صفات کے پہلے حرف کو لے کر ایک لفظ بنایا جاۓ. اور پھر جاھل سے ج لیا نالائق سے ن احمق سے ا اور بیوقوف سے ب . لفظ بن گیا "جناب" اس کے بعد طلبہ نے ھر انگریزی خواں کو جناب کہنا شروع کر دیا. یہ لفظ ایسا مشہور ھوا کہ آج کسی کو پتا ھی نہیں کہ یہ بنا کیسے تھا سب ایک دوسرے کو جناب کہتے پھرتے ھیں.
(خطبات فقیر، جلد۹ صفحہ۱۹ )
ھے ناں حیرت انگیز؟
لفظ "جناب" کی حقیقت :
لفظ " جناب" کسی زمانے میں گالی ھوتی تھی. اس کی مثال کچھ یوں دی گئ .
ایک جگہ پر کچھ انگریزی خواں لوگ تھے. وہ دینی طلبہ کو بہت تنگ کرتے تھے اور عربی مدارس کے طلباء کو قربانی کا مینڈھا کہتے غرض کبھی کچھ کبھی کچھ.. ایک دن سب طلبہ نے طے کیا کہ انگریزی خواں لوگوں کے لۓ کوئ ایسا لفظ بنائیں جس میں ان کی ساری صفات آ جائیں غور کیا گیا تو چار باتیں مشترک تھیں پہلی یہ لوگ بڑے جاھل تھے دوسری نالائق تھے تیسری احمق تھے اور چوتھی بیوقوف تھے. اس کے بعد طے پایا کہ چاروں صفات کے پہلے حرف کو لے کر ایک لفظ بنایا جاۓ. اور پھر جاھل سے ج لیا نالائق سے ن احمق سے ا اور بیوقوف سے ب . لفظ بن گیا "جناب" اس کے بعد طلبہ نے ھر انگریزی خواں کو جناب کہنا شروع کر دیا. یہ لفظ ایسا مشہور ھوا کہ آج کسی کو پتا ھی نہیں کہ یہ بنا کیسے تھا سب ایک دوسرے کو جناب کہتے پھرتے ھیں.
(خطبات فقیر، جلد۹ صفحہ۱۹ )
ھے ناں حیرت انگیز؟
True
Jhagray Iss Liye Bhi Khatam Nahin Hotay K Jhagray Ko Hum Jhagray Sey Khatam Kar Rahe hote Hain."
ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔
ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟"
غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی
تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔
کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟"
بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.
محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟"
غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی
تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔
کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟"
بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.
محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
True Story
ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔
ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟"
غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی
تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔
کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟"
بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.
محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟"
غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی
تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔
کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟"
بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں.
محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے۔
Allama IQbal
ہم توحید هستی میں، هے سارا جہان ہمارا
.
هم کافروں کے کافر، هے کافر خدا همارا.
.
هم کافروں کے کافر، هے کافر خدا همارا.
شاعر;علامہ اقبال
{کوئ تشریح کر سکتا ہے؟}
Muhabbat whi faida mand Jo Allah sy ki jyE
ﺍﯾﮏ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻗﺮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ..!! ﻣﺎﻟﮏ ﺍﻟﻤﻠﮏ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ..!!❤❤
ادب
ادب کی حد میں ہُوں مَیں بے ادب نہیں ہوتا
تمھارا تذکرہ، اب روز و شب نہیں ہوتا
تمھارا تذکرہ، اب روز و شب نہیں ہوتا
کبھی کبھی تو چَھلک پڑتی ہیں یونہی آنکھیں!
اُداس ہونے کا ، کوئی سبب نہیں ہوتا
اُداس ہونے کا ، کوئی سبب نہیں ہوتا
کئی اَمِیروں کی محرُومِیاں نہ پُوچھ کہ بس
غرِیب ہونے کا احساس اب نہیں ہوتا
غرِیب ہونے کا احساس اب نہیں ہوتا
میں والدین کو، یہ بات کیسے سمجھاؤں !
محبّتوں میں حسب ونسب نہیں ہوتا
محبّتوں میں حسب ونسب نہیں ہوتا
وہاں کے لوگ بڑے دِلفریب ہوتے ہیں
مِرا بہکنا بھی کوئی عجب نہیں ہوتا
مِرا بہکنا بھی کوئی عجب نہیں ہوتا
میں اُس زمین کا دِیدار کرنا چا ہتا ہُوں !
جہاں کبھی بھی، خُدا کا غضب نہیں ہوتا
جہاں کبھی بھی، خُدا کا غضب نہیں ہوتا
بشیر بدؔر
📜🖊
📜🖊
QuRaNi AyaT
کہو کیا برابر ہو سکتے ھیں علم والے اور بے علم -نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ھیں. (سورہ زمر)آیت 9
ایک کہانی
السلام علیکم
صبح بخیر
.
صبح بخیر
.
ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮬﯿﺎ ﮐﻮ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﺎﺗﺘﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﺑﮍﮬﯿﺎ !
ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﭼﺮﺧﮧ ﮬﯽ ﮐﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. " ﺑﯿﭩﺎ ! ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍِﺳﯽ ﭼﺮﺧﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ .. "
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﺑﮍﯼ ﺑﯽ ! ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﮬﺎﮞ ﮬﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﺧﺪﺍ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﻮﻟﯽ.. " ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﺮﺧﮧ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ .. " ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ..؟ "
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ .. " ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﭼﻼﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ
ﮬﻮﮞ ﯾﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﺗﺐ ﯾﮧ
ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ .. ﺗﻮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﭼﻼﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ' ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ
ﭼﺮﺧﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﮬﻮﮔﯽ ..
ﭘﺲ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﭨﮫ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﺎﮬﯿﮯ ﺍﺳﯽ
ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﺎﮬﯿﮯ.. ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ
ﭼﻼﺗﺎ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﭼﺮﺧﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﮕﺮ ﮬﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ' ﭼﺎﻧﺪ
ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮬﺮ
ﮔﮭﮍﯼ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ.. " ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭼﺮﺧﮧ
ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺩﻭ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﺍﯾﮏ ﮬﮯ .. ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﭼﺮﺧﮧ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ
ﻃﺮﻑ ﮐﻮ ﭼﻼﺗﯽ ﮬﻮﮞ ﯾﮧ ﭼﺮﺧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﻮ
ﭼﻠﺘﺎ ﮬﮯ.. ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﺐ ﺗﻮ ﭼﺮﺧﮧ
ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺁ ﮐﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ
ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮬﻮﺗﺎ ..
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺟﮩﺖ
ﭘﺮ ﭼﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺮﺧﮧ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ .. ﺍﺱ
ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ..
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮬﻮﺗﺎ ﺗﻮ
ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ
ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ .. ﺟﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻮ
ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﮬﮯ !!.. "
ﭼﺮﺧﮧ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺑﯿﻨﮍ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮﮞ
ﮐﮩﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻓﻘﯿﺮ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺩﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺗﻮ
............... ......
اے ایچ شاہ
ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﭼﺮﺧﮧ ﮬﯽ ﮐﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. " ﺑﯿﭩﺎ ! ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍِﺳﯽ ﭼﺮﺧﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ .. "
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﺑﮍﯼ ﺑﯽ ! ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﮬﺎﮞ ﮬﺮ ﮔﮭﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﺧﺪﺍ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﺑﻮﻟﯽ.. " ﺩﻟﯿﻞ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﺮﺧﮧ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ .. " ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ..؟ "
ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ .. " ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﭼﻼﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ
ﮬﻮﮞ ﯾﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﺗﺐ ﯾﮧ
ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ .. ﺗﻮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﭼﻼﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ' ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ
ﭼﺮﺧﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﮬﻮﮔﯽ ..
ﭘﺲ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﭨﮫ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﺎﮬﯿﮯ ﺍﺳﯽ
ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﺎﮬﯿﮯ.. ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ
ﭼﻼﺗﺎ ﺭﮬﮯ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﭼﺮﺧﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﮕﺮ ﮬﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ' ﭼﺎﻧﺪ
ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮬﺮ
ﮔﮭﮍﯼ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮬﮯ .. "
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ.. " ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭼﺮﺧﮧ
ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺩﻭ ..؟ "
ﺑﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﺍﯾﮏ ﮬﮯ .. ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﭼﺮﺧﮧ ﮬﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ
ﻃﺮﻑ ﮐﻮ ﭼﻼﺗﯽ ﮬﻮﮞ ﯾﮧ ﭼﺮﺧﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﻮ
ﭼﻠﺘﺎ ﮬﮯ.. ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﺐ ﺗﻮ ﭼﺮﺧﮧ
ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺁ ﮐﺮ ﻧﺘﯿﺠﮧ
ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮬﻮﺗﺎ ..
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺟﮩﺖ
ﭘﺮ ﭼﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺮﺧﮧ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ .. ﺍﺱ
ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ..
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮬﻮﺗﺎ ﺗﻮ
ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ
ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﯾﺎ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﺎ .. ﺟﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻮ
ﺿﺮﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﭼﺮﺧﮧ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﮬﯽ ﮬﮯ !!.. "
ﭼﺮﺧﮧ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺑﯿﻨﮍ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮﮞ
ﮐﮩﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻓﻘﯿﺮ ﺳﺎﺋﯿﮟ ﺩﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺗﻮ
...............
اے ایچ شاہ
MeRa Allah
میرا محرم راز صرف اللہ ھے.مجھے اس سے بے حد محبت ھے .اسکی محبت کے آگے مجھے تمام محبتیں ہیچ لگتی ھیں. ..
از مونا شاہ
از مونا شاہ
ایک سبق
ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﯽ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ .. ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺷﮑﻮﮦ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ .. ﮐﮩﺘﺎ .. " ﺣﻀﺮﺕ ! ﺑﮍﯼ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ .. ﺑﮍﯼ ﺗﻨﮓ ﺩﺳﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺴﺮﺕ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ .. ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ .. ﺁﺝ ﯾﮧ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ .. ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﻧﮩﯿﮟ .. ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮨﯽ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮨﮯ .. ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ .. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " .. ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ .. ؟؟ "
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮕﯽ ﮨﮯ .. ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ' ﮐﻞ ﺁﻧﺎ ''.. ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺁﭘﺲ ﮨﻮﺍ ..
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺘﻨﮯ ﺭﻭﭘﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ''..
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ .. ؟ "
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. '' ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﻬﻰ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ''..
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺑﻮﻻ '' .. ﺍﺭﮮ ﺑﮭﻼ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮮﺩﻭﮞ .. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ .. ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. '' ﺩﯾﮑﮭﺎ ! ﺁﺝ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺶ ﺑﮩﺎ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺗﻮ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺷﮑﻮﮦ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭ ﺍًﺳﺠﺪﮦ ﺷﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ..
ﺳﭻ ﮨﮯ !!! ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ .. ﺁﻧﮑﮫ ' ﻧﺎﮎ ' ﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﻭﮞ ___ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ .. ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﻢ ﮨﮯ .. ﺍﻟﺤﻤﺪُ ﻟﻠّٰﮧ
مزید اسطرح کی اچھی تحاریر میری پروفائل پر پڑھیں اگر پروفائل پسند آئے تو لاۂک کر کے سی فرسٹ بھی کریں آپ کو پوسٹس ملتی رہیں گی.
ﺑﺰﺭﮒ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ .. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ " .. ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ .. ؟؟ "
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮕﯽ ﮨﮯ .. ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ' ﮐﻞ ﺁﻧﺎ ''.. ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺁﭘﺲ ﮨﻮﺍ ..
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ '' .. ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺘﻨﮯ ﺭﻭﭘﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺯﻳﺎﺩﻩ ﯾﻌﻨﯽ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ''..
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. " ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ .. ؟ "
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ .. '' ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﺱ ﻻﮐﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﺑﻬﻰ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ''..
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺑﻮﻻ '' .. ﺍﺭﮮ ﺑﮭﻼ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺩﮮﺩﻭﮞ .. ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ .. ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. '' ﺩﯾﮑﮭﺎ ! ﺁﺝ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺶ ﺑﮩﺎ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺗﻮ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺷﮑﻮﮦ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ''..
ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭ ﺍًﺳﺠﺪﮦ ﺷﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ..
ﺳﭻ ﮨﮯ !!! ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ .. ﺁﻧﮑﮫ ' ﻧﺎﮎ ' ﮐﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﻭﮞ ___ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ .. ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮐﻢ ﮨﮯ .. ﺍﻟﺤﻤﺪُ ﻟﻠّٰﮧ
مزید اسطرح کی اچھی تحاریر میری پروفائل پر پڑھیں اگر پروفائل پسند آئے تو لاۂک کر کے سی فرسٹ بھی کریں آپ کو پوسٹس ملتی رہیں گی.
شہید
رھان مظفر وانی اور لاکھوں کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائےگا۔ آزادی کا جو چراغ برھان مظفر وانی نے جلایا ہے اس کی روشنی کشمری کے ہر گلی کوچے میں ہر بچے اور بوڑھے تک پہنچ رہی ہے
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور خارجہ اس معاملے پر سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ کشمیر میں ہونے والے معاملات کو لیک آؤٹ ہونے سے کیسے روکا جائے۔ کیوںکہ انٹرنیٹ پر پابندی اور 5 دن سے بجلی کٹنے کے باوجود وہاں سے مسلسل خبریں باہر کی دنیا میں جا رہی ہیں۔ اور اس سب کا کریڈٹ برھان وانی کو جاتا ہے۔۔ وہاں کےمناظر موبائل کیمروں سے مجاہدین تک پہنچتے ہیں اور مجاہدین وادی سے نکل کر بھارت کے دیگر علاقوں یا کشمیر کے سرحدی علاقوں کی طرف آ کر وہ فوٹوز اور ویڈیوز ریلیز کررہے ہیں۔
بھارتی آرمی کا سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل اس وقت اپنا سر پیٹ رہا ہو گا کیوں کہ بھارت جتنا اس معاملے کو دبانا چاہتا ہے یہ معاملہ اتنا ہی وائرل ہوتا جا رہا ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ فیس بک نے بھارت کے کہنےپر برھان وانی والی آئی ڈیز بند کیں، پھر بھی برھان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے موجودہ حالات دنیا کی نظر میں آ رہے ہیں۔ سرحد کے اس پار بیٹھے کشمیری مجاہدین کا کام یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ویڈیوز پاکستان آتی رہیں۔ باقی کا کام پاکستانیوں کا ہے کہ ان ویڈیوز کو کیسے عالمی سطح پر پہنچایا جائے۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور خارجہ اس معاملے پر سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ کشمیر میں ہونے والے معاملات کو لیک آؤٹ ہونے سے کیسے روکا جائے۔ کیوںکہ انٹرنیٹ پر پابندی اور 5 دن سے بجلی کٹنے کے باوجود وہاں سے مسلسل خبریں باہر کی دنیا میں جا رہی ہیں۔ اور اس سب کا کریڈٹ برھان وانی کو جاتا ہے۔۔ وہاں کےمناظر موبائل کیمروں سے مجاہدین تک پہنچتے ہیں اور مجاہدین وادی سے نکل کر بھارت کے دیگر علاقوں یا کشمیر کے سرحدی علاقوں کی طرف آ کر وہ فوٹوز اور ویڈیوز ریلیز کررہے ہیں۔
بھارتی آرمی کا سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل اس وقت اپنا سر پیٹ رہا ہو گا کیوں کہ بھارت جتنا اس معاملے کو دبانا چاہتا ہے یہ معاملہ اتنا ہی وائرل ہوتا جا رہا ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ فیس بک نے بھارت کے کہنےپر برھان وانی والی آئی ڈیز بند کیں، پھر بھی برھان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے موجودہ حالات دنیا کی نظر میں آ رہے ہیں۔ سرحد کے اس پار بیٹھے کشمیری مجاہدین کا کام یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ویڈیوز پاکستان آتی رہیں۔ باقی کا کام پاکستانیوں کا ہے کہ ان ویڈیوز کو کیسے عالمی سطح پر پہنچایا جائے۔
Friday, 15 July 2016
ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﯿﺎﺡ ﻧﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﯿﮑﮭﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻻﮨﻮﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻻﮨﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ".... ﮐﯿﺎ ﺑﺎﻍ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﮍﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ."?...
ﻻﮨﻮﺭﯼ ﺑﻮﻻ ...
" ﺁﮨﻮ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﻮﻟﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺳُﻨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ .
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "... ﮐﯿﺎ ﺑﺎﻍ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﮍﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ? "
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ "... ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "... ﺍﭼﮭﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ' ﺁﮨﻮ ' ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ؟ ."
ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻮﻻ "... ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﻮﮒ ' ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﮍﮪ ' ﺁﮨﻮ ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﻮﻻ "... ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ۔ ."
ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻮﻻ ...
" ﺁﮨﻮ "
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻻﮨﻮﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻻﮨﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ".... ﮐﯿﺎ ﺑﺎﻍ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﮍﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ."?...
ﻻﮨﻮﺭﯼ ﺑﻮﻻ ...
" ﺁﮨﻮ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﻮﻟﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺳُﻨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ .
ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "... ﮐﯿﺎ ﺑﺎﻍ ﺟﻨﺎﺡ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﮍﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ? "
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ "... ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "... ﺍﭼﮭﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ' ﺁﮨﻮ ' ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ؟ ."
ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻮﻻ "... ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﻟﻮﮒ ' ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﮍﮪ ' ﺁﮨﻮ ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ."
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﻮﻻ "... ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ۔ ."
ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻮﻻ ...
" ﺁﮨﻮ "
Thursday, 14 July 2016
Subscribe to:
Comments (Atom)






