رھان مظفر وانی اور لاکھوں کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائےگا۔ آزادی کا جو چراغ برھان مظفر وانی نے جلایا ہے اس کی روشنی کشمری کے ہر گلی کوچے میں ہر بچے اور بوڑھے تک پہنچ رہی ہے
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور خارجہ اس معاملے پر سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ کشمیر میں ہونے والے معاملات کو لیک آؤٹ ہونے سے کیسے روکا جائے۔ کیوںکہ انٹرنیٹ پر پابندی اور 5 دن سے بجلی کٹنے کے باوجود وہاں سے مسلسل خبریں باہر کی دنیا میں جا رہی ہیں۔ اور اس سب کا کریڈٹ برھان وانی کو جاتا ہے۔۔ وہاں کےمناظر موبائل کیمروں سے مجاہدین تک پہنچتے ہیں اور مجاہدین وادی سے نکل کر بھارت کے دیگر علاقوں یا کشمیر کے سرحدی علاقوں کی طرف آ کر وہ فوٹوز اور ویڈیوز ریلیز کررہے ہیں۔
بھارتی آرمی کا سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل اس وقت اپنا سر پیٹ رہا ہو گا کیوں کہ بھارت جتنا اس معاملے کو دبانا چاہتا ہے یہ معاملہ اتنا ہی وائرل ہوتا جا رہا ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ فیس بک نے بھارت کے کہنےپر برھان وانی والی آئی ڈیز بند کیں، پھر بھی برھان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے موجودہ حالات دنیا کی نظر میں آ رہے ہیں۔ سرحد کے اس پار بیٹھے کشمیری مجاہدین کا کام یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ویڈیوز پاکستان آتی رہیں۔ باقی کا کام پاکستانیوں کا ہے کہ ان ویڈیوز کو کیسے عالمی سطح پر پہنچایا جائے۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ اور خارجہ اس معاملے پر سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ کشمیر میں ہونے والے معاملات کو لیک آؤٹ ہونے سے کیسے روکا جائے۔ کیوںکہ انٹرنیٹ پر پابندی اور 5 دن سے بجلی کٹنے کے باوجود وہاں سے مسلسل خبریں باہر کی دنیا میں جا رہی ہیں۔ اور اس سب کا کریڈٹ برھان وانی کو جاتا ہے۔۔ وہاں کےمناظر موبائل کیمروں سے مجاہدین تک پہنچتے ہیں اور مجاہدین وادی سے نکل کر بھارت کے دیگر علاقوں یا کشمیر کے سرحدی علاقوں کی طرف آ کر وہ فوٹوز اور ویڈیوز ریلیز کررہے ہیں۔
بھارتی آرمی کا سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل اس وقت اپنا سر پیٹ رہا ہو گا کیوں کہ بھارت جتنا اس معاملے کو دبانا چاہتا ہے یہ معاملہ اتنا ہی وائرل ہوتا جا رہا ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ فیس بک نے بھارت کے کہنےپر برھان وانی والی آئی ڈیز بند کیں، پھر بھی برھان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کے موجودہ حالات دنیا کی نظر میں آ رہے ہیں۔ سرحد کے اس پار بیٹھے کشمیری مجاہدین کا کام یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ ویڈیوز پاکستان آتی رہیں۔ باقی کا کام پاکستانیوں کا ہے کہ ان ویڈیوز کو کیسے عالمی سطح پر پہنچایا جائے۔
No comments:
Post a Comment