ادب کی حد میں ہُوں مَیں بے ادب نہیں ہوتا
تمھارا تذکرہ، اب روز و شب نہیں ہوتا
تمھارا تذکرہ، اب روز و شب نہیں ہوتا
کبھی کبھی تو چَھلک پڑتی ہیں یونہی آنکھیں!
اُداس ہونے کا ، کوئی سبب نہیں ہوتا
اُداس ہونے کا ، کوئی سبب نہیں ہوتا
کئی اَمِیروں کی محرُومِیاں نہ پُوچھ کہ بس
غرِیب ہونے کا احساس اب نہیں ہوتا
غرِیب ہونے کا احساس اب نہیں ہوتا
میں والدین کو، یہ بات کیسے سمجھاؤں !
محبّتوں میں حسب ونسب نہیں ہوتا
محبّتوں میں حسب ونسب نہیں ہوتا
وہاں کے لوگ بڑے دِلفریب ہوتے ہیں
مِرا بہکنا بھی کوئی عجب نہیں ہوتا
مِرا بہکنا بھی کوئی عجب نہیں ہوتا
میں اُس زمین کا دِیدار کرنا چا ہتا ہُوں !
جہاں کبھی بھی، خُدا کا غضب نہیں ہوتا
جہاں کبھی بھی، خُدا کا غضب نہیں ہوتا
بشیر بدؔر
📜🖊
📜🖊
No comments:
Post a Comment