Friday, 19 August 2016

Right naa

محبت اور جنگ میں سب جاہز ہے.....یہ جملہ بہت سنے کو ملتا ہے میں نےاسں سے متلعق پو سٹ بھی کی تھی جس کا مقصد اس کے بارے میں آپکی راے جا ننا تھا ......کل جب میں نے اس کے متعلق پڑھا تو میں حیران رھ گی کہ ھم کتنے ناعلم ھیں ناعلمی میں بعض وہ باتیں کر جاتے ہیں جو اللہ تعالی کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں................... قران پاک میں سورتہ البقرہ میں پارہ نمبر دو میں آیت ١٦٤میں فرماتے ہیں(;اور لوگوں میں سے باز اللہ کو چھوڑ کر اورں کو معبود بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کر تے ہیں جیسے اللہ سے کر نی چا ہیے اور وہ لوگ جو ایمان والے ہیں اللہ کی محبت میں سب سے شدیدہیں.) سب سے پہلے تو محبت کی وجہ کو جان لینا ضروری ہیں کہ محبت کی تین وجوحات ہیں 1لزت 2 فاںدہ3 خوبی یہ تین وجہ ھیں جنکی وجہ سے انسان محبت کر تا ھے.....اللہ تعالی نے اس دنیا میں جو کچھ بھی بنایا ہے...ان میں یہ تینوں باتیں موجودہیں.....طرح طرح کے پھول درخت چاند بادل پرندے ان میں آنکھوں کے لیے لذت ہے...پھل سبزیاں پانی دودھ ان میں ہمارے لیے فاںدہ ہی فاںدہ ہے اسی طرح اللہ تعالی کی بناںی ہوںی چیزوں میں کوںی نہ کوںی حکمت پوشیدہ ہے ....جب اللہ کی بناںی ہوںی چیزوں میں فاںدے بھی ھیں اور آنکھوں کے لیے لزت بھی تو ھونا تو یہ چاھے تھا کہ ھما ری ساری محبتیں اللہ کے لیے ھوتی لکین ھم اس کو بھول کرلوگوں کی محبت میں اٹک جا تے ھیں

Learn a lesson

نیکیاں کرتے جاؤ دریا میں ڈالتے جاؤ جب کبھی زندگی میں کوئی طوفان آیا تو یہیں نیکیاں کشتی بن جائیں گی.

My own lines

ہر شخص کے رویے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے جب تک آپ کسی دوسرے کی جگہ پہ کھڑے ہو کر نہیں دیکھتے' آپ کی سمجھ میں پوری بات نہیں آ سکتی. ہر کہانی کی ایک دوسری سائیڈ ضرور ہوتی ہے ....!! :-

Allah ho akbEr

قارون بہت بڑا عبادت گزار تھا اس نے چالیس سال تک پہاڑ کی غار میں رہ کر عبادت کی اور بنی اسرائیل کی قوم میں عبادت کے اعتبار سے سبقت لے گیا ابلیس نے اس کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف شیاطین روانہ کیے مگر کوئی بھی اس کو گمراہ نہ کر سکا حتی کہ خود ابلیس اس کے مقابلہ کے لیے آیا اور اس کی عبادت گاہ کے قریب آکر پہاڑ کے ایک جانب عبادت کرنے لگ گیا اور اتنی عبادت کی کہ قارون پر سبقت لے گیا قارون تھک جاتا تھا مگر ابلیس نہیں تھکتا تھا قارون روزے کا ناغہ کر لیتا تھا مگر ابلیس روزانہ بلا ناغہ روزہ رکھتا تھا اس طرح قارون کے دل میں اس کی عقیدت پیدا ہوگئی اور اس نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے شیطان نے ایک دن قارون سے کہا کہ ہم اس عبادت پر قناعت کر کے بیٹھ گئے ہیں ہمیں لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا چاہیے مخلوق خدا سے تعلق توڑنا نہیں چاہیے ہم نہ تو ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں اور نہ ہی جماعت میں اور ہمیں یہ عبادت بنی اسرائیل کے اندررہ کر کرنی چاہیے اس طرح ہم ان کے دکھ سکھ میں بھی شریک ہوں گے اور ہماری عبادت دیکھ کر ان کے دل میں بھی عبادت کا جزبہ پیدا ہوگا چنانچہ یہ دونوں پہاڑ سے اتر کر بنی اسرایئل کے معبد میں آگئے اور وہاں عبادت میں مشغول ہوگئے بنی اسرایئل ہر طرح سے ان کی خدمت کرتے کھانا لا کر کھلاتے اور سب ضروریات کا خیال رکھتے ایک دن شیطان نے قارون سے کہا کہ ہم بنی اسرائیل پر بوجھ بن چکے ہیں یہ تو اچھی بات نہیں ہمیں چاہیے کہ خود کما کر کھائیں اور لوگوں سے مستغنی ہو جایئں قارون بولا پھر کیا رائے ہے ابلیس کہنے لگا کہ اگر ہم ایک دن مزدوری کر لیں اور باقی ہفتہ عبادت میں گزاردیں تو یہ ٹھیک رہے گا قارون نے اس کی بات مان لی اور اب دونوں نے اس طرح کرنا شروع کردیا کچھ عرصہ کے بعد شیطان نے کہا کہ ہم تو محض اپنے لیے کماتے ہیں کیا ہی بہتر ہوتا کہ ہم دوسروں پر صدقہ بھی کرتے آخر بدنی عبادت کے ساتھ مالی عبادت کا بھی بڑا درجہ ہے قارون بولا پھر کیا رائے ہے ہم کیا کریں ابلیس نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ ہم ایک دن تجارت وغیرہ کریں اور ایک دن عبادت کریں چنانچہ اب دونوں نے یہ کام کرنا شروع کر دیا اب ابلیس نے قارون کو مال ودولت کا چسکا ڈال کر چھوڑدیا رفتہ رفتہ قارون کے سامنے دنیا کے خزانے جمع ہونے لگے تجارت کے اسرار ورموز کھلنے لگے اور اس کے پاس اتنا خزانہ جمع ہوگیا کہ جس کی چابیاں سنبھالنا بھی کارے دارد تھا مال ودولت کی محبت میں آکر وہ بالاآخر حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلے پر اتر آیا اور اس نے زکوتہ دینے سے انکار کردیا چنانچہ اللہ تعالی نے اس کو اس کے تمام خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اسے کوئی بھی کام نہ آیا اسی واقعہ کی طرف اللہ تعالی نے اشارہ کیا ہے
فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ )81(
کہ ہم اسے اور اس کے گھر بار کو زمین مییں دھنسا دیا اور کوئی بھی اس کا ساتھی اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کے لیے نہ آیا



غریب بابا جی اور کنجوس دوست
--------------------------------------
ہم چار دوستوں کا ایک گروپ تھا، نہیں بلکہ پانچ دوستوں کا، پہلے چار اسلئے کہا تھا کہ ہم چار دوست پارٹیاں اور ہلہ گلہ وغیرہ کرتے تھے لیکن پانچواں عظمت خان تھا جو کہ اکثر پارٹیوں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔۔ اسے ہلہ گلہ اور خرچہ کرنا اچھا نہیں لگتا تھا شاید اسلئے کہ وہ بہت کنجوس تھا۔ ہم اس کو بہت طعنے بھی دیتے تھے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔ پھر بھی بندہ دل کا اچھا تھا اسلئے ہمارے گروپ میں کسی نا کسی کھاتے میں شامل تھا۔ وہ ایک سردیوں کی یخ بستہ رات تھی میں اور میرا دوست عظمت بائیک پر کسی کام سے صدر کےلئے روانہ ہوئے۔ بائیک میری تھی سو میں ہی چلا رہا تھا۔ابھی ہم آدھے راستے پر ہی تھے کہ ایک دم عظمت چلایا۔۔۔ ارے بائیک روکو بائیک روکو۔۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا کہ اللہ خیر ہی کرے بحر حال میں نے بائیک روک دی۔ عظمت بائیک سے اترا اور جہاں سے ہم آرہے تھے وہاں واپس پیدل تیز تیز چلنے لگا۔ میں نے بھی بائیک ایک سائیڈ پر روک لی اور اس کے پیچھے چلا گیا۔۔۔ تھوڑی دور گیا تو ایک جگہ پر ایک سفید داڑھی والے ایک بوڑھے شخص کے پاس وہ رک گیا۔ اس کے سامنے کچھ کیلے رکھے ہوئے تھے اور تھوڑے سے سیب بھی تھے۔۔۔ جسم پر ایک پرانی سے موٹی چادر تھی اور پائوں میں پرانے اور پھٹے ہوئے جوتے تھے۔ اس ٹھنڈی رات میں شاید وہ کسی گاہک کا انتظار کررہے تھے۔ میں نے سوچا شاید عظمت میری جیب مارے گا۔۔ عظمت بابا جی کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے سارے کیلوں اور سیبوں کا ریٹ پوچھا۔۔۔ بابا جی نے اس سب کی قیمت تین سو روپے بتائی۔۔۔ عظمت نے کہا کہ بابا جی میرے ایک مجبوری ہے اور میں یہ سب چیزیں ایک ہزارمیں خریدوں گا۔۔۔ مہربانی کرکے یہ سب ایک ہزار کی دے دیں میری عزت کا سوال ہے۔۔۔ بابا جی یہ سن ہر حیرت زدہ ہوئے اور پریشان بھی ہوئے اور کیلے اور سیب دینے سے انکار کردیا۔۔۔ عظمت اس کے منت سماجت کرنے لگا کہ بابا جی میری عزت کا سوال ہے میں ایک ہزار سے کم میں یہ نہیں خرید سکتا۔۔ کچھ منت سماجت کے بعد وہ بابا جی مان گئے۔۔ تو عظمت نے جھٹ سے جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکالا۔۔ بابا جی نے جیب سے ٹارچ نکال کر ایک ہزار کے نوٹ کو تسلی سے دیکھا اور سارے سیب اور کیلے ایک شاپر میں ڈال دئے۔۔ عظمت نے جیسے ہی وہ کیلے اور سیب لئے تیزی سے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور بائیک کی طرف چلنے لگا۔۔ میں بہت حیرانگی سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہاتھا۔۔ میں سمجھا کہ شاید عظمت نے اس بابا جی کو جعلی نوٹ دے دیا۔۔۔ بائیک کے قریب آکر میں نے مزاق میں کہا کہ ارے لگتا ہے بابا جی کو تم نے الو بنا لیا ہے جعلی نوٹ دے کر سارا فروٹ لے لیا۔۔۔ عظمت نے ایک مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا اور کہا۔۔ نہیں بھائی نوٹ ایک دم اصلی تھا۔۔ میں مزید حیران ہوا اور اس سے پوچھا تو پھر تین سو کا فروٹ ایک ہزار میں کیوں لیا۔۔۔۔۔ اس نے جواب دیا ۔۔۔ ارے پگلے با با کی مدد کی ہے۔۔ دیکھو نا اس ٹھنڈی رات میں وہ بیچارہ بیٹھا کسی گاہک کا انتظار کررہا تھا اور گھر میں اس کے بچے اس کا انتظار کررہے ہوں گے سو میں نے سوچا ان کی مدد کر لوں غریب بندہ لگ رہا تھا۔۔۔ تم لوگ جو پارٹیوں میں ہزاروں لٹا دیتے ہو میں اسی طرح ہزاروں جمع کرتا ہوں آخرت کے لئے۔۔۔۔۔ عظمت کے یہ جملے سن کر میں سکتے میں آگیا۔۔۔۔۔۔ اور اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔ کیونکہ اپنی نادانی اور عظمت کی دانائی کی وجہ سے میرے آنکھوں سے دو آنسو نکل کر میرے چہرے کو تر کر رہے تھے۔

ﺟﺎﮬﻞ ﺻﺮﻑ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻧﺎ ﮨﻮ ' ﺟﺎﮨﻞ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮈﮔﺮﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻇﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻌﺖ ' ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﻮ -
ﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﮩﺎﻧﯽ ....
)ﻭﻗﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮍﮬﯿﮟ (
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﮑﺎﭨﺮﺳﭧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﯿﺎ
ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﯾﺎ .
ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ؟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺯﺭﺍ
ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ .
ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ ﭼﺖ ﻟﯿﭩﺎ ﻣﺎﺿﯽ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ
ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﮭﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ . . .
ﺳﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ
ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯿﻦ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ
ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﭽﺮﺍﺭ ﺗﮭﯽ . ﺑﭽﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎﻟﺞ
ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭽﮭﮯ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ . ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﻨﮯ
ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ . ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﮩﺎﮞ
ﭼﺎﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ ﭨﺮﯾﭩﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ . ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ
ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻭﺭﮎ
ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ . ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ
ﺳﮯ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﺍﻥ ﮨﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ
ﻧﻮﺷﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ...
" ﺳﻨﺌﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ
ﺧﺎﺻﯽ ﮈﺳﭩﺮﺑﻨﺲ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ . ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎ
ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ؟"
ﯾﮧ ﺳﻨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ
ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﮐﮧ " ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ؟
ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺑﻮ ﮐﯽ ﮈﯾﺘﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺎﻝ ﭘﻮﺱ ﮐﺮ ﺑﮍﺍ
ﮐﯿﺎ ".
" ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺟﺰﺑﺎﺗﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﯿﮟ
ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ
ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺴﯿﻮﮞ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮨﯿﮟ . ﮨﻢ
ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﮐﯽ
ﺑﮭﯽ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺩﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺠﻤﮧ ؟ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ
ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ
ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﺋﯿﮟ
".
" ﺍﭼﮭﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻭ
ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺩﻭ ".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻣﺎﻍ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﮨﯽ ﺻﺒﺢ
ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﻟﯿﮑﺮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﻮﺵ
ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺗﮭﺎ . ﮔﺎﮌﯼ ﭘﺎﺭﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﺑﻨﮕﻠﮯ ﮐﯽ
ﻃﺮﺯ ﭘﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﺱ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ
ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ
ﺩﯾﺘﯽ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﯿﺎ . ﺍﺱ ﺩﻥ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮔﮭﻮﻡ ﭘﮭﺮ
ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ
ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﯽ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ . ﺻﺎﻑ
ﺳﺘﮭﺮﺍ ﻣﺎﺣﻮﻝ , ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻻﻥ ,
ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﮈﺳﭙﻨﺴﺮﯼ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻃﻌﯿﻨﺎﺕ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ
ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﺍﯾﻨﻤﺒﻮﻟﯿﻨﺴﺰ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ
ﺗﮭﯽ .
ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺳﮯ ﻓﯿﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﻮﭼﮭﯽ
ﺗﻮ ﭼﻮﺩﮦ ﻃﺒﻖ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ . ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻨﺎﺳﺐ
ﻟﮕﮯ . ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺑﺎﻗﯽ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ
ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ
ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﺍﻭﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﭼﭗ
ﭼﺎﭖ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ . ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎ
ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼُﭗ ﮨﻮﮔﯿﺎ .
ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ
ﮐﯿﺴﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﮞ . ﯾﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ
ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ .
" ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﺘﺮ ؟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟ "
" ﺟﯽ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ , ﮐﯿﺴﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮨﮯ ﺍﺏ ؟
"
" ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ . ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ
ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ؟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﮐﻤﺒﺨﺖ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ
ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ...
"
" ﺑﻮﻝ ﭘﺘﺮ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ
".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﮑﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ .
" ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ
ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ . ﻭﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﮨﮯ .
ﻭﮨﺎﮞ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ
ﮨﮯ . ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﮨﮯ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺭﻗﺼﺎﮞ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ
ﺗﮭﻢ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ
ﺑﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﮟ . ﭘﺘﺮ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ
ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ
ﮈﺳﭩﺮﺏ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ . ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ . ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻌﻞ ﺧﻮﺵ
ﻭﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ " .
ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﺗﮭﺎ ﭼﻮﻣﺎ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ . ﻣﯿﺮﺍ ﺿﻤﯿﺮ
ﺍﺱ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺳﮩﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﺎ ﮐﺮ
ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ
ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ .
ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ
ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ .ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ
ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺗﺎ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﮑﺮ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ .
ﺑﺲ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ .
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻧﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺎ . ﺍﺳﯽ
ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﮦ ﻣﻨﺤﻮﺱ ﺩﻥ ﺁ ﮔﯿﺎ ...
ﻭﮦ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ . ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ
ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ
ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ . ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ
ﻣﯿﮟ ﺁﺑﯿﭩﮭﺎ . ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﻠﻒ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﭨﮭﺎﺭﮦ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ .
" ٍﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﺎ
ﻣﮑﻤﻞ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ".
" ﺍﭼﮭﺎ ! ﻭﺍﮦ ﺷﺎﺑﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ
".
" ﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ
ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺅﮞ
ﮔﺎ ".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،
" ﺍﭼﮭﺎ ، ﮐﮩﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﻮ ؟"
" ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ " .... ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ . ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ
ﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺟﻢ ﮔﺌﮯ . ﻭﮦ
ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ,
" ﺁﺝ ﺳﻨﮉﮮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ
ﮔﺮﯾﻨﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﻧﮓ
ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ".
ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻤﻠﮯ ﭘﮧ
ﮨﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ . ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ
ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﭼﮭﭙﺎ ﺗﮭﺎ .
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﮦ ﻓﺼﻞ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﭨﻨﯽ ﮨﯽ
ﺗﮭﯽ . ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ
ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ
ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ
ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﺑﻞ ﺍﺑﻞ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﭩﯿﺎ
ﺳﻠﻮﮎ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ .
ﺍﯾﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ
ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﻮﺍ
ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ .
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺠﻠﯽ
ﮔﺮﯼ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻗﺒﻞ ﮨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺎﺭﭦ
ﺍﭨﯿﮏ ﺳﮯ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ
ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ
ﮔﺌﮯ .
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ
ﭼﮍﭼﮍﺍ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ . ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ
ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ . ﺑﻼﻭﺟﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻣﻮﮞ
ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﺍﮐﺜﺮ ﭼﮭﭩﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻥ
ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ
ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ
ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮨﯽ ،
ﻧﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ . ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﮯ
ﺳﮑﻮﻧﯽ , ﺑﮯ ﺁﺭﺍﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﺎﮔﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮯ
ﻓﯿﺾ ؟؟
ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﺭﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮈﺍﮐﭩﺮ
ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ .
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ , ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ .
" ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ".... ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ
ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻮﻻ ،
" ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ
ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ . ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ".
ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﺌﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮔﻠﻮﮔﯿﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ،
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺁﭖ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ". ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ
ﮐﻠﯿﻨﮏ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
" ﺍﺭﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺟﺎ ﮐﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ،
" ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ . . . ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ". ﯾﮧ ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺭﺍﮨﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .
ﯾﮏ ﻧﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﮩﺎﻧﯽ ....
)ﻭﻗﺖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮍﮬﯿﮟ (
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﮑﺎﭨﺮﺳﭧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺑﯿﮕﻢ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﮧ ﮐﺌﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﯿﺎ
ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﯾﺎ .
ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ؟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺯﺭﺍ
ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ .
ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺌﮯ ﭼﺖ ﻟﯿﭩﺎ ﻣﺎﺿﯽ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ
ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﮭﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ . . .
ﺳﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ
ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺭﮨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯿﻦ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ
ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﭽﺮﺍﺭ ﺗﮭﯽ . ﺑﭽﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎﻟﺞ
ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﭽﮭﮯ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ . ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﻨﮯ
ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ . ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﮩﺎﮞ
ﭼﺎﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ ﭨﺮﯾﭩﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﮨﻤﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ . ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﮐﺜﺮ
ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻭﺭﮎ
ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ . ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ
ﺳﮯ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ . ﺍﻥ ﮨﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ
ﻧﻮﺷﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ ...
" ﺳﻨﺌﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ
ﺧﺎﺻﯽ ﮈﺳﭩﺮﺑﻨﺲ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ . ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎ
ﮨﻢ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ؟"
ﯾﮧ ﺳﻨﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ
ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﮐﮧ " ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ؟
ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺑﻮ ﮐﯽ ﮈﯾﺘﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺎﻝ ﭘﻮﺱ ﮐﺮ ﺑﮍﺍ
ﮐﯿﺎ ".
" ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺟﺰﺑﺎﺗﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﯿﮟ
ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ
ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺴﯿﻮﮞ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮨﯿﮟ . ﮨﻢ
ﮐﺴﯽ ﺍﭼﮭﮯ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﺋﯿﻮﯾﭧ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ ﮐﺎ
ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﮐﯽ
ﺑﮭﯽ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺩﻥ
ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ
ﮐﺮﮮ ﮔﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺠﻤﮧ ؟ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ
ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺍﻭﻟﮉ ﮨﻮﻡ
ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﺋﯿﮟ
".
" ﺍﭼﮭﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻭ
ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺩﻭ ".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﮐﺘﺎﺏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻣﺎﻍ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﮨﯽ ﺻﺒﺢ
ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﻟﯿﮑﺮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﻮﺵ
ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺗﮭﺎ . ﮔﺎﮌﯼ ﭘﺎﺭﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﺑﻨﮕﻠﮯ ﮐﯽ
ﻃﺮﺯ ﭘﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﺱ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ
ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ
ﺩﯾﺘﯽ ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﯿﺎ . ﺍﺱ ﺩﻥ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﮔﮭﻮﻡ ﭘﮭﺮ
ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ
ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮨﯽ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺟﻨﺖ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ . ﺻﺎﻑ
ﺳﺘﮭﺮﺍ ﻣﺎﺣﻮﻝ , ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻻﻥ ,
ﭘﺮﺷﮑﻮﮦ ﮈﺳﭙﻨﺴﺮﯼ ﺟﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻃﻌﯿﻨﺎﺕ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ
ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﺍﯾﻨﻤﺒﻮﻟﯿﻨﺴﺰ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ
ﺗﮭﯽ .
ﻣﺴﺰ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺳﮯ ﻓﯿﺲ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﻮﭼﮭﯽ
ﺗﻮ ﭼﻮﺩﮦ ﻃﺒﻖ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ . ﻟﯿﮑﻦ
ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﻣﻨﺎﺳﺐ
ﻟﮕﮯ . ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺑﺎﻗﯽ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ
ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮭﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ
ﻭﺍﻻ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﺍﻭﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﭼﭗ
ﭼﺎﭖ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ . ﺍﻣﺎﮞ ﮐﺎ
ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼُﭗ ﮨﻮﮔﯿﺎ .
ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ
ﮐﯿﺴﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﮞ . ﯾﮧ ﻣﺸﮑﻞ ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ
ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ .
" ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﺘﺮ ؟ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻟﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ؟ "
" ﺟﯽ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﯽ
ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ , ﮐﯿﺴﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮨﮯ ﺍﺏ ؟
"
" ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ . ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ
ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ؟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﮐﻤﺒﺨﺖ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ
ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ...
"
" ﺑﻮﻝ ﭘﺘﺮ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ
".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﮑﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ .
" ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ
ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ . ﻭﮨﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﭨﮭﺎﮎ ﮨﮯ .
ﻭﮨﺎﮞ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﭼﻮﺑﯿﺲ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﺎ
ﮨﮯ . ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﺻﺎﻑ ﺳﺘﮭﺮﺍ ﮨﮯ ".
" ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺭﻗﺼﺎﮞ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ
ﺗﮭﻢ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ
ﺑﻞ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﮟ . ﭘﺘﺮ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ
ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﯽ
ﮈﺳﭩﺮﺏ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ . ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ . ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻌﻞ ﺧﻮﺵ
ﻭﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ " .
ﺍﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﺗﮭﺎ ﭼﻮﻣﺎ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ . ﻣﯿﺮﺍ ﺿﻤﯿﺮ
ﺍﺱ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﭘﮧ ﺁﻣﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ
ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺳﮩﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﺎ ﮐﺮ
ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ
ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ .
ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ
ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ .ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ
ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺗﺎ . ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭼﮑﺮ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ .
ﺑﺲ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ .
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﻧﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺎ . ﺍﺳﯽ
ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﮦ ﻣﻨﺤﻮﺱ ﺩﻥ ﺁ ﮔﯿﺎ ...
ﻭﮦ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ . ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ
ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﯼ
ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ . ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﮌﯼ
ﻣﯿﮟ ﺁﺑﯿﭩﮭﺎ . ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﻠﻒ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﭨﮭﺎﺭﮦ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ .
" ٍﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﺎ
ﻣﮑﻤﻞ ﺳﯿﮑﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ".
" ﺍﭼﮭﺎ ! ﻭﺍﮦ ﺷﺎﺑﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ
".
" ﮈﯾﮉ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ
ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺅﮞ
ﮔﺎ ".
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،
" ﺍﭼﮭﺎ ، ﮐﮩﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﻮ ؟"
" ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ " .... ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﮔﯿﺎ . ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ
ﺳﭩﯿﺮﻧﮓ ﭘﮧ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺟﻢ ﮔﺌﮯ . ﻭﮦ
ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ,
" ﺁﺝ ﺳﻨﮉﮮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ
ﮔﺮﯾﻨﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﻧﮓ
ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ".
ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻤﻠﮯ ﭘﮧ
ﮨﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ . ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻌﺼﻮﻡ
ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﭼﮭﭙﺎ ﺗﮭﺎ .
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﮦ ﻓﺼﻞ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﭨﻨﯽ ﮨﯽ
ﺗﮭﯽ . ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ
ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ
ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ
ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺍﺑﻞ ﺍﺑﻞ ﮐﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﭩﯿﺎ
ﺳﻠﻮﮎ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ .
ﺍﯾﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻼﻭﺟﮧ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ
ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﺗﺎ ﮨﻮﺍ
ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ .
ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺠﻠﯽ
ﮔﺮﯼ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻗﺒﻞ ﮨﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺎﺭﭦ
ﺍﭨﯿﮏ ﺳﮯ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ
ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ
ﮔﺌﮯ .
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ
ﭼﮍﭼﮍﺍ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ . ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ
ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ . ﺑﻼﻭﺟﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻣﻮﮞ
ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭩﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﺍﮐﺜﺮ ﭼﮭﭩﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻥ
ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﮯ
ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ
ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ . ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺭﮨﯽ ،
ﻧﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ . ﺍﺏ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﮯ
ﺳﮑﻮﻧﯽ , ﺑﮯ ﺁﺭﺍﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﺎﮔﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮯ
ﻓﯿﺾ ؟؟
ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﺭﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮈﺍﮐﭩﺮ
ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ .
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ , ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ .
" ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ".... ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻮﻻ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ
ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻮﻻ ،
" ﺍﺳﮑﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﮑﻮﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﻋﻼﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ
ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ . ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ".
ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﺌﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮔﻠﻮﮔﯿﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ ،
" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺁﭖ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ". ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﺯﻡ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ
ﮐﻠﯿﻨﮏ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
" ﺍﺭﮮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺟﺎ ﮐﮩﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ؟" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ،
" ﺍﻭﻟﮉ ﺍﯾﺞ ﮨﻮﻡ . . . ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻮ ﻟﯿﻨﮯ ". ﯾﮧ ﮐﮩﺎ
ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺭﺍﮨﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .