Friday, 19 August 2016

محبت انسان کی ضرورت ہے اور انسان کی فطرت میں شامل ہے جیسے خوراک انسان کی ضرورت ہے جیسے قران پڑھنا روح کی ضرورت ہےجیسے علم عقل کی ضرورت ہے اور محبت انسان کی جذباتی ضرورت ہے جاںز حدمیں رہ کر کسی سے بھی کی جاسکتی ہے......کچھ لوگوں کوکسی انسان سےمحبت ھوتی ھےکچھ کو جانوروں سے کچھ کو مال ودولت سے......شدید محبت صرف اللہ کاحق ہےکہ انسان اپنے قیمتی ترین جذبات صرف اللہ کے لیے رکھےکیونکہ اسی رب نےتوھمیں سبکچھ دیا ھےلکین ھم کیاکرتےھیں ھم اس معاملہ میں بھٹک جاتے ھیں..جیسی محبت اللہ سے کرنی ھوتی ویسی غیر اللہ سے کرتے ھیں..کچھ کو اپنے ھاتھوں کے بناںے ھوںے بتوں سے کچھ کو شخصیتوں سے مال و دولت سے بیوی بچوں سے قوم برادری سے انسانوں سے...یہ سب غیراللہ میں شامل ھوتے ھیں....ھم جس سے محبت کرتے ھیں وہ چیز یا انسان ھمارے دل ودماع پر حاوی ھو جاتی ہے...اسکی یاد میں ھم اٹھتے بیھٹتے ھیں.. اسی کی یاد میں سونا جاگنا ...بھوکے پیاسے ہو تو بھی اسی یاد میں.......کیا ھمارا یہ رویہ ٹھیک ہے.....جب ھم کسی سے محبت کر تے ھیں تو کیا ھم برداشت کر سکتے ھیں کہ وہ کسی اور سے محبت کرے...نہیں کر سکتے نا تو پھر وہ رب جو ستر ماوں سے بھی ذیادہ محبت کرتا ھے اس کے ساتھ ھم کیا کرتے ھیں.....جب ھم کسی سے محبت کر تے ھیں اور وہ ھمارے دل ودماغ پر ھاوی ھو جاتا ھے تو پھر وہی ھمارے خوابوں میں بھی ھوتا ھے.......پھر ھر چیز ھر تعلق ثانوی ھو جاتی ھے ....ھرانسان کی ذندگی میں کوںی نہ کوںی نمبر 1 پر ھوتا ھے.......ھمیں اپنے اپنے جاںزے کی ضرورت ھے کہ ھماری زندگیوں میں نمبر1 کون ھے .....اگر نمبر 1 پہ اللہ کے علاوہ کوںی اور ھے کوںی چیز یا کوںی انسان تو یہ خودپہ ظلم ھے.....کوںی انسان مال متاع چیز جگہ ایسی نہ ھو جو دل ودماغ پر حاوی ھو اور اللہ کی محبت سے آگے آجاںے بقیہ حصہ کل پوسٹ ھو گا.......انشا اللہ

No comments:

Post a Comment